Description:ارنسٹ ہیمنگوئے کی شہرہ آفاق تصنیف کا ترجمه "وداع جنگ " میں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ ترجمہ اشفاق احمد نے کیا ہے جو جانے پہچانے ادیب اور صحافی ہیں۔ ارنسٹ ہیمنگوئے کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ وہ ان خوش نصیب ادیبوں میں شامل ہے جو اپنی زندگی میں اپنے آپ کو شہرت کے بام عروج پر پاتے ہیں۔ اس کی متعدد کہانیاں اور ناول فلمائے جاچکے ہیں۔ ہم میں سے کون ہے جس نے ”دی سن آل سورائیزز " "فار ہوم دی بیل ٹولس" نامی فلمیں نہیں دیکھیں ؟ ہیمنگوئے کی ایک اور "اور "فیرویل ٹو آرمس کہانی دی سنوز آف میمنجارو بھی خوبصورت طریقے سے فلمائی جاچکی ہے۔ مذکورہ بالا تین بہترین ناول کے علاوہ ہیمنگوئے نے بیسیوں مختصر افسانے بھی لکھے۔ اس کے علاوہ ایک ڈرامہ ”دی ففتھ کالم " بھی اس کے قلم سے ہے۔ ہیمنگوئے پر امریکہ کو بجاطور پر ناز ہے۔ ۱۸۹۸ء میں یہ ادیب اور ناول نویس امریکی ریاست الینائے میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ ایک دیہی ڈاکٹر تھا۔ اپنے باپ کے ساتھ اس نے خاصا سفر کیا جس کے تاثرات اس کے ابتدائی افسانوں کے مجموعہ میں ملتے ہیں۔ پہلی جنگ عظیم میں ہیمنگوئے نے کیناس سٹی سٹار " نامی اخبار کی رپورٹنگ کی مگر جب امریکہ کو بھی اس جنگ میں شامل ہونا پڑا تو وہ ایک امریکی ایمبولنس یونٹ میں بھرتی ہو گیا۔ اطالوی محاذ پر اس نے بہادری کے جوہر دکھائے مگر شدید طور پر زخمی ہو گیا۔ جنگ مگر کے ہولناک مناظر ، موت کی فراوانی انسانی خون کی ارزانی بمباری زخمیوں کی کراہ اور جنگ ر جنگ کے خونی دیوتا کے ہاتھوں انسانی تہذیب و تمدن کی تباہیوں کو دیکھ کر ہیمنگوئے کے اندر کا ادیب جاگ اُٹھا۔ اُسے جنگ سے نفرت ہو گئی اور اسی جذ بہ نفرت اور امن پسندی نے اس سے یہ عظیم ناول لکھوایا جس کا اردو ترجمہ آج آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ جنگ کے خاتمے پر پیرس میں وہ ایک اخبار کا نامہ نگار بن گیا۔ یہیں سے اس کی شہرت کا آغاز ہوا۔ اس کے منفرد اسلوب نگارش نے اس کے کئی مقلد پیدا کیے جو چاہتے تھے اس کے طرز بیان کو اپنالیں لیکن انہیں کچھ زیادہ کامیابی نہیں ہوئی۔ ہسپانوی جنگ کے دوران میں وہ ملوکیت کی وفادار فوج کے محاذ پر دیکھا گیا۔ کچھ عرصہ بعد اس نے مار تھا گلہارن سے شادی کر لی۔ دونوں مل کر ایک اخبار . P.M کی نمائندگی کے لیے چین روانہ ہوئے۔ دونوں کو سیاحت کا شوق ہے البتہ نام نہاد ادیبوں اور نقادوں سے دونوں اپنا دامن بچاتے ہیں۔ ہیمنگوئے کو ۱۹۵۴ء میں ادب کا نوبل انعام دیا گیاWe have made it easy for you to find a PDF Ebooks without any digging. And by having access to our ebooks online or by storing it on your computer, you have convenient answers with Vida-e Jang / وداع جنگ. To get started finding Vida-e Jang / وداع جنگ, you are right to find our website which has a comprehensive collection of manuals listed. Our library is the biggest of these that have literally hundreds of thousands of different products represented.
Description: ارنسٹ ہیمنگوئے کی شہرہ آفاق تصنیف کا ترجمه "وداع جنگ " میں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ ترجمہ اشفاق احمد نے کیا ہے جو جانے پہچانے ادیب اور صحافی ہیں۔ ارنسٹ ہیمنگوئے کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ وہ ان خوش نصیب ادیبوں میں شامل ہے جو اپنی زندگی میں اپنے آپ کو شہرت کے بام عروج پر پاتے ہیں۔ اس کی متعدد کہانیاں اور ناول فلمائے جاچکے ہیں۔ ہم میں سے کون ہے جس نے ”دی سن آل سورائیزز " "فار ہوم دی بیل ٹولس" نامی فلمیں نہیں دیکھیں ؟ ہیمنگوئے کی ایک اور "اور "فیرویل ٹو آرمس کہانی دی سنوز آف میمنجارو بھی خوبصورت طریقے سے فلمائی جاچکی ہے۔ مذکورہ بالا تین بہترین ناول کے علاوہ ہیمنگوئے نے بیسیوں مختصر افسانے بھی لکھے۔ اس کے علاوہ ایک ڈرامہ ”دی ففتھ کالم " بھی اس کے قلم سے ہے۔ ہیمنگوئے پر امریکہ کو بجاطور پر ناز ہے۔ ۱۸۹۸ء میں یہ ادیب اور ناول نویس امریکی ریاست الینائے میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ ایک دیہی ڈاکٹر تھا۔ اپنے باپ کے ساتھ اس نے خاصا سفر کیا جس کے تاثرات اس کے ابتدائی افسانوں کے مجموعہ میں ملتے ہیں۔ پہلی جنگ عظیم میں ہیمنگوئے نے کیناس سٹی سٹار " نامی اخبار کی رپورٹنگ کی مگر جب امریکہ کو بھی اس جنگ میں شامل ہونا پڑا تو وہ ایک امریکی ایمبولنس یونٹ میں بھرتی ہو گیا۔ اطالوی محاذ پر اس نے بہادری کے جوہر دکھائے مگر شدید طور پر زخمی ہو گیا۔ جنگ مگر کے ہولناک مناظر ، موت کی فراوانی انسانی خون کی ارزانی بمباری زخمیوں کی کراہ اور جنگ ر جنگ کے خونی دیوتا کے ہاتھوں انسانی تہذیب و تمدن کی تباہیوں کو دیکھ کر ہیمنگوئے کے اندر کا ادیب جاگ اُٹھا۔ اُسے جنگ سے نفرت ہو گئی اور اسی جذ بہ نفرت اور امن پسندی نے اس سے یہ عظیم ناول لکھوایا جس کا اردو ترجمہ آج آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ جنگ کے خاتمے پر پیرس میں وہ ایک اخبار کا نامہ نگار بن گیا۔ یہیں سے اس کی شہرت کا آغاز ہوا۔ اس کے منفرد اسلوب نگارش نے اس کے کئی مقلد پیدا کیے جو چاہتے تھے اس کے طرز بیان کو اپنالیں لیکن انہیں کچھ زیادہ کامیابی نہیں ہوئی۔ ہسپانوی جنگ کے دوران میں وہ ملوکیت کی وفادار فوج کے محاذ پر دیکھا گیا۔ کچھ عرصہ بعد اس نے مار تھا گلہارن سے شادی کر لی۔ دونوں مل کر ایک اخبار . P.M کی نمائندگی کے لیے چین روانہ ہوئے۔ دونوں کو سیاحت کا شوق ہے البتہ نام نہاد ادیبوں اور نقادوں سے دونوں اپنا دامن بچاتے ہیں۔ ہیمنگوئے کو ۱۹۵۴ء میں ادب کا نوبل انعام دیا گیاWe have made it easy for you to find a PDF Ebooks without any digging. And by having access to our ebooks online or by storing it on your computer, you have convenient answers with Vida-e Jang / وداع جنگ. To get started finding Vida-e Jang / وداع جنگ, you are right to find our website which has a comprehensive collection of manuals listed. Our library is the biggest of these that have literally hundreds of thousands of different products represented.